Saturday, 19 June 2021

ہم زیاں کار یہی کار ہنر کرتے ہیں

 ہم زیاں کار یہی کارِ ہنر کرتے ہیں

زندگی کوئی ملامت میں بسر کرتے ہیں

ہم بھی اک دوسرے سے کاش وہ باتیں کرتے

یہ پرندے جو سرِ شاخِ شجر کرتے ہیں

گوہرِ یاد سرِ خانۂ دل رکھنے کو

کتنے آنسو ہیں جنہیں چشم بدر کرتے ہیں

اتر آیا ہے ان آنکھوں میں وہ آشوبِ جہاں

اب ترے رنج سے بھی صرفِ نظر کرتے ہیں

کوئی اس پار طرب زار نہیں ہے طارق

کے لیے درد کی دیوار میں در کرتے ہیں


طارق ہاشمی

No comments:

Post a Comment