تم کہتے ہو دل جھگڑا نمٹا سکتے ہو
سہل نہیں ہے دھیان رہے دُہرا سکتے ہو
میں اک بوجھ ہوں اور میں بوجھ بھی ایسا ویسا
تم مجھ کو تھوڑا تھوڑا لے جا سکتے ہو
اس کے علاوہ اور کوئی آسانی نہیں ہے
شعر سنا سکتے ہو، دل بہلا سکتے ہو
اپنے گھر میں کون کہے؛ جی میں آیا ہوں
دل دریا میں جب چاہو آ جا سکتے ہو
بے ہنگم سا شور چھپا بیٹھا ہے مجھ میں
میرے اندر ایک قیامت لا سکتے ہو؟
کس حد تک تم جا سکتے ہو سمجھانے میں
ایک انسان کو کس حد تک سمجھا سکتے ہو؟
مٹی میں اس حد تک حِدت رکھی گئی ہے
تم جس پھُول کو چھُو لو، آگ بنا سکتے ہو
اسامہ امیر
No comments:
Post a Comment