Saturday, 3 July 2021

مجنوں کبھی مجھے کبھی رانجھا بنا دیا

 مجنوں کبھی مجھے کبھی رانجھا بنا دیا

اس عشق نے تو میرا تماشا بنا دیا

محوِ خرام زُلفیں تھِیں چہرے پہ یار کے

اس نے انہیں سمیٹ کے جُوڑا بنا دیا

آئے گا کوئی کرنے یہاں اب قیام کیوں

تم نے دیارِ دل کو بھی کوفہ بنا دیا

عزت تو دور کوئی جنہیں پوچھتا نہ تھا

دولت نے آج ان کا بھی شجرہ بنا دیا

خاموش اتنے ہم سدا سے تو نہیں رہے

ہم کو تمہارے عشق نے ایسا بنا دیا

تجھ سے ملی نگاہ مِری، شعر ہو گیا

تھاما جو تُو نے ہاتھ تو نغمہ بنا بنا دیا

پلکوں پہ میری خواب رہے رقص میں مگن

جاگا جو نیند سے تِرا چہرہ بنا دیا

مدت کے بعد لوٹ کے اُس کج ادا نے پھر

ہر زخم میری روح کا تازہ بنا دیا

چاہت تھا میں تِری مِری بگڑی بھی تُو بنا

مرضی سے اپنی خاک کا پُتلا بنا دیا


صائم علی

No comments:

Post a Comment