Thursday, 1 July 2021

چہرے پہ عیاں کرب کا منظر نہیں دیکھا

چہرے پہ عیاں کرب کا منظر نہیں دیکھا

لوگوں نے مِرے دل میں اُتر کر نہیں دیکھا

موجوں کے تھپیڑوں کی اسے کیسے خبر ہو

صحرا کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

پستی میں جو لے آئی مجھے گردشِ دوراں

اونچائی پہ پھر اپنا مقدر نہیں دیکھا

کیوں ٹینک سے توپوں سے ڈراتے ہو ہمیشہ

کیا تم نے ابابیلوں کا لشکر نہیں دیکھا؟

دِیوالی مناتے رہے تسکین سبھی لوگ

افسوس مِرا جلتا ہوا گھر نہیں دیکھا


صلاح الدین تسکین

No comments:

Post a Comment