بنا کے دِیں کو فقط یرغمال رکھا ہے
جہاں کو شیخ نے چکر میں ڈال رکھا ہے
کسی کی یاد کی اس رائیگاں مسافت نے
دلِ تباہ کو کر کے نڈھال رکھا ہے
یہ اس خدا کی ہے قدرت، یہ بس خدا کا ہے کام
”اکیلے دونوں جہاں کو سنبھال رکھا ہے“
نبیؐ کے گھر سے محبت ،علیؑ کے نام کا ورد
اسی وظیفے نے مشکل کو ٹال رکھا ہے
فراتِ چشم کا پانی ہے اک امانت جو
برائے خاتمِ مرسلؐ کی آلؑ رکھا ہے
ظل ہما
No comments:
Post a Comment