Saturday, 3 July 2021

ہم زرد ہوئے اس موسم میں جسے سبز دعائیں آتی تھیں

 ہم زرد ہوئے

اس موسم میں

جسے سبز دعائیں آتی تھیں

ہم خاک ہوئے ان ہونٹوں پر 

جو بوسہ دے کر پھول کھِلا سکتے تھے 

شاخ کے ماتھے پر 

ہم نقش ہوئے اس دھڑکن پر 

جسے علم نہیں تھا، ہم بھی ہیں

ہم پنچھی اُجڑے منظر کے

ہم وحشی اپنی اندر کے

یہ کس رستے پر چل نکلے

جو خاموشی میں شور کا تھا

کسی اور کا تھا

اب ریت ہوا کی مُٹھی میں جو لے جائے

اک ٹُوٹے خواب کا سرمایہ، وہ لے جائے 

یہ خواب ہے شاید

خواب نہیں

یہ کون آیا؟


ذیشان حیدر نقوی

No comments:

Post a Comment