Tuesday, 20 July 2021

سنگ اک اور گرا دل کے نہاں خانے میں

 سنگ اک اور گرا دل کے نہاں خانے میں

اشک گرتے ہی رہے پھر اسے بہلانے میں

میں سمجھ پائی نہ اے دل! رہی یہ کس کی خطا

آ گئی کیوں میں ت<رے دام میں انجانے میں

اس کی باتوں میں اگرچہ تھی وفا کی خوشبو

دیر پھر بھی نہ لگی دھوکا مجھے کھانے میں

جھوٹ کو دیتا ہے وہ سچ کا لبادہ کیسا

لطف آتا ہے بہت اس کے اس افسانے میں

فرق کیا مجھ کو پڑا ایک شکست اور سہی

ہے عجب سا ہی نشہ مات کے کھا جانے میں

شرمسار اپنے کہے پر نہیں ہے فاطمہ وہ

شرم آتی ہے اسے اپنے ہی شرمانے میں


فاطمہ رضوی

No comments:

Post a Comment