تمہارے بعد جینا سانحہ تھا
مصیبت تھی مگر جینا پڑا تھا
میں کچی عمر میں بوڑھی ہوئی تھی
مِرا دُکھ جو مِرے قد سے بڑا تھا
کہ اس سے دل بھرا تو چھوڑ آئے
محبت کیا تمہارا مشغلہ تھا؟
بُجھی نہ پیاس دریا کے کنارے
تمہارے قُرب میں بھی فاصلہ تھا
سُجھائی اور کچھ دیتا نہیں تھا
مجھے وہ اس طرح سے آ ملا تھا
بدن اس کے بنا کھنڈر ہوا ہے
مِرے سینے کی وہ دھڑکن رہا تھا
محبت بند گلیوں میں ہوئی تھی
کہاں پھر واپسی کا راستہ تھا
وہ میّت آنکھ یوں کھولے پڑی تھی
کسی اُمید پر وہ در کھلا تھا
بدن سے جان میری کھچ گئی تھی
جدائی جان لیوا مرحلہ تھا
مِری نمناک آنکھیں بولتی تھیں
مِرا خاموش لہجہ چیختا تھا
کوئی پوچھے تو کہہ دیتے تھے خوش ہیں
ہمارا خود سے اتنا واسطہ تھا
یہ سارے زخم بھرتے جا رہے ہیں
کہاں ہے تُو، جو زخموں کی جگہ تھا
مِرے چہرے پہ آنکھیں بچ گئیں بس
تمھارا ہجر مجھ کو نوچتا تھا
بتوں نے شرک کی ترغیب دی ہے
وگرنہ عشق تو پہلے خدا تھا
وہ پہلی بار تم کو دیکھنے پر
عجب طوفان سا دل میں اُٹھا تھا
بچھڑ جائیں گے لیکن خوش رہیں گے
ہمارے درمیاں یہ طے ہوا تھا
جاناں شاہ
No comments:
Post a Comment