Monday, 2 August 2021

تم بارش کی پہلی بوند کے جیسے ہو

سراپا 


تیرا چہرہ پھول کے جیسے لگتا ہے 

تیری آنکھیں

سرخ شرابوں جیسی ہیں 

تیرے ہونٹ ملائم 

پھول کی پتی سے 

تیری باتیں 

میر کے شعروں جیسی ہیں  

مشکل میں 

معصوم دعاؤں جیسے ہو 

صحرا میں 

گھنگھور گھٹاؤں جیسے ہو 

سانس اکھڑتی ہے جب 

حبس کے موسم میں 

تم بارش کی پہلی بوند کے جیسے ہو 


اظہر عروج

No comments:

Post a Comment