برکھا رُت آئی گیت
برکھا رُت آئی
پیت کی ڈالی پہ بولے کوئلیا
جیسے چھنکے میری یہ پائلیا
بادل راجا کے شور میں دب جائے
ہر بات سنائی
برکھا رُت آئی
سکھیاں چھیڑیں تورے نام پہ بالم
ساون چھوٹ رہا ہے , آ جا ظالم
جلمی بارش جوت بجھانے آئے
میں ہوئی سودائی
برکھا رُت آئی
بادل برسیں آگ لگائیں تن میں
تم بن کیا جیون، دھُول اُڑے من میں
کون مرے ہونٹوں کا رنگ چرائے
آ رے ہرجائی
برکھا رُت آئی
خاور چودھری
No comments:
Post a Comment