خالقِ نغمہ ہوں، گو ٹوٹا ہوا اک ساز ہوں
"میں مسلماں عورتوں کے درد کی آواز ہوں"
پر شکستہ ہی سہی لیکن میں اک شہباز ہوں
یعنی سُوئے بامِ رفعت مائلِ پرواز ہوں
جس کی پہنائی میں ہے دنیائے آزادی کا دَور
میں انہیں ایامِ خوش انجام کا آغاز ہوں
موت کا جس جا حیاتِ دائمی ہوتا ہے نام
جنگِ آزادی کے اُس میداں کی اک سرباز ہوں
ہو اگر قائم مِری سعی و عمل سے اتحاد
ملک و ملت کے لیے میں باعثِ صد ناز ہوں
میرے آگے ہیچ ہے ہندو و مسلم کا سوال
اس لیے ہندوستاں میں اس قدر ممتاز ہوں
مسلم مالیگانوی
No comments:
Post a Comment