شدید پیاس تھی پھر بھی چُھوا نہ پانی کو
میں دیکھتا رہا دریا! تِری روانی کو
سیاہ رات نے بے حال کر دیا مجھ کو
کہ طول دے نہیں پایا کسی کہانی کو
بجائے میرے کسی اور کا تقرر ہو
قبول جو کرے خوابوں کی پاسبانی کو
اماں کی جا مجھے اے شہر تُو نے دی تو ہے
بُھلا نہ پاؤں گا صحرا کی بے کرانی کو
جو چاہتا ہے کہ اقبال ہو سوا تیرا
تو سب میں بانٹ برابر سے شادمانی کو
شہریار خان
No comments:
Post a Comment