عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
مدینے کے مسافر جان دینے کربلا آئے
تمام آسائشیں تج کر بہ تسلیم و رضا آئے
نہیں ہوتا کوئی آسان راہِ عشق طے کرنا
سفر میں ہر قدم پر مرحلے صبر آزما آئے
بھلا ہر کس و ناکس کو بھی یہ توفیق ہوتی ہے
فدا ہونے کی خاطر آئے تو اہلِ وفا آئے
سما سکتی نہیں الفاظ میں مظلومیت ان کی
شہیدوں پر غم و رنج و الم بے انتہا آئے
ہمیں بھی کاش آ جائے یہ جینا اور یہ مرنا
تمنا اے شعور اس کے سوا ہونٹوں پہ کیا آئے
خدائی آج بھی ہے منتظر مشکل کشائی کی
کوئی مردِ خدا اس دور میں بھی اے خدا آئے
یزیدِ وقت نے دنیا جہنم میں بدل دی ہے
ضرورت ہے کہ پھر کوئی زعیمِ کربلا آئے
انور شعور
No comments:
Post a Comment