Wednesday, 18 August 2021

دل کے زخموں کو ہرا کرتے ہیں

 دل کے زخموں کو ہرا کرتے ہیں

کیوں تجھے یاد کیا کرتے ہیں

ان اندھیروں کو حقارت سے نہ دیکھ

یہ چراغوں کا بھلا کرتے ہیں

ساری باتیں نہیں مانی جاتیں

بچے تو ضد ہی کیا کرتے ہیں

اتنا سوچا ہے تِرے بارے میں

اب تِرے حق میں دعا کرتے ہیں

پارسا دنیا میں کوئی بھی نہیں

آدمی سارے خطا کرتے ہیں

اب تو غزلوں کے حوالے سے تِرا

ذکر دنیا سے کیا کرتے ہیں


رئیس صدیقی

No comments:

Post a Comment