Saturday, 14 August 2021

اے ہمسفرو کیوں نہ نیا شہر بسا لیں

 اے ہم سفرو کیوں نہ نیا شہر بسا لیں

اپنے ہی اصول اپنی ہی اقدار بنا لیں

جن لوگوں نے اب تک مِرے ہونٹوں کو سیا ہے

سوزن سے مِری سوچ کا کانٹا بھی نکالیں

برفوں پہ الاؤ نہیں لگتے ہیں تو یارو

بُجھتی ہوئی قندیل سے قندیل جلا لیں

کہنے کو تو بازار کی ہم جنسِ گِراں ہیں

لیکن ہمیں کوڑی پہ خریدار اُٹھا لیں

بوجھ اپنا بھی ہم سے تو اُٹھایا نہیں جاتا

اور آپ مُصر آپ کا بھی بوجھ اُٹھا لیں


فخر زمان

No comments:

Post a Comment