تعزیت کی کھوکھلی ہے رسم جاری آج کل
اس طرح سے ہو رہی ہے غمگساری آج کل
لوگ ننگے پاؤں ہیں، اور کرچیاں ہیں فرش پر
اور اس پر موت کا ہے رقص جاری آج کل
شوق ہے ہم کو تماشہ دیکھنے کا اور یہاں
رہنما بھی مل گئے ہیں کچھ مداری آج کل
اب نصاب عشق میں شامل نہیں مہر و وفا
ہو گئے ہیں یہ مضامیں اختیاری آج کل
جیت پر اس کا یقیں پختہ ہوا یہ دیکھ کر
آ رہی ہے نفرتوں میں پائیداری آج کل
یہ کہا تھا مان سے وہ مان رکھتا ہے مرا
ہو رہی ہے جا بجا پر شرمساری آج کل
مدتوں کے بعد وہ پیکر ہوا ہے مہرباں
ہے مگر پرہیزگاری ہم پہ طاری آج کل
بخت کیا جاگے مرے دنیا شناسا ہو گئی
سب کی مجھ سے ہو گئی ہے رشتےداری آج کل
زندگی کم یاب ہونے کا خسارہ یہ بھی ہے
قاتلوں میں بڑھ گئی بے روزگاری آج کل
ریحان علوی
No comments:
Post a Comment