Sunday, 19 September 2021

دوستوں کے دشمنوں کا یار ثابت کر مجھے

 دوستوں کے دشمنوں کا یار ثابت کر مجھے

باقی باتیں چھوڑ اور غدار ثابت کر مجھے

میرے دونوں ہاتھ چومے اور پھر رونے لگا

میں نے اس سے جب کہا تھا؛ پیار ثابت کر مجھے

پہلے میں بھی تیرے دل کی قیمتی چیزوں میں تھا

اب اگر بے کار ہوں، بے کار ثابت کر مجھے

میں جو خالی ہاتھ تیرے سامنے آجاؤں تو

تُو اٹھائے گا نہیں تلوار، ثابت کر مجھے

دھوپ کہتی ہے تیری دیوار کا سایہ ہوں میں

اے محبت! سایۂ دیوار ثابت کر مجھے


زاہد بشیر

No comments:

Post a Comment