Tuesday, 21 September 2021

رات چوپال اور الاؤ میاں

 رات چوپال اور الاؤ میاں

اب کہاں گاؤں کا سبھاؤ میاں

شعر کہنا تو خیر مشکل ہے

شعر پڑھنا ہی سیکھ جاؤ میاں

درس و تدریس جب کہ منصب ہے

کچھ پڑھو، اور کچھ پڑھاؤ میاں

یہ جو پھیلی تو تم بھی جھلسو گے

آگ کا کھیل مت رچاؤ میاں

یہ سفر درد کا ہے رستے میں

کیسا رکنا؟ کہاں پڑاؤ میاں


یوسف تقی

No comments:

Post a Comment