Tuesday, 21 September 2021

دشت کے بیچ میں تالاب نظر آتے ہیں

دشت کے بیچ میں تالاب نظر آتے ہیں

‎ہم غریبوں کو فقط خواب نظر آتے ہیں

‎چاندنی کھُل کے جو برسے کبھی صحراؤں میں

‎ریت کے ذرّے بھی مہتاب نظر آتے ہیں

‎جھونپڑے والے تو سوتے ہی نہیں ساون میں

‎سوئیں تو خواب میں سیلاب نظر آتے ہیں

‎دل تڑپ اُٹھتا ہے جب چاند ستارے مجھ کو

‎کالے تالاب میں غرقاب نظر آتے ہیں

‎چند راحت بھرے لمحات کی خواہش میں عبید

‎شہر والے سبھی بے تاب نظر آتے ہیں


عبیدالرحمٰن نیازی 

No comments:

Post a Comment