Wednesday, 22 September 2021

تجھ کو پورا نہیں ملا ہوں میں

 تجھ کو پورا نہیں ملا ہوں میں

آدھا مجھ میں ہی رہ گیا ہوں میں

تیری محفل میں ذکر میرا ہے

یعنی اب بھی نہیں گیا ہوں میں

آئینے تلملائے جاتے ہیں

اس قدر خوشنما ہوا ہوں میں

اور کچھ وقت چاہیۓ مجھ کو

اپنے بچوں کا آسرا ہوں میں

ایک قطرہ پلک پہ ٹھہرا ہوا

آدھی مانگی ہوئی دعا ہوں میں

چاند ہوں اور چلتے پانی میں

دیکھ کیسا ٹھہر گیا ہوں میں

کوئی ایسے جدا نہیں ہوتا

جیسے تجھ سے جدا ہوا ہوں میں

کوئی چھت سے بلا رہا ہے مجھے

اور سیڑھی بنا رہا ہوں میں

دل کے اندر دہک رہا ہے کہیں

ایک آنسو جو پی چکا ہوں میں

مجھ پہ طاری ہے موسمِ ہجراں

پھر بھی کیسا ہرا بھرا ہوں میں

کہہ دیا نا پرے رہو مجھ سے

کہہ دیا نا بہت برا ہوں میں


افتخار شاہد

No comments:

Post a Comment