مصیبتوں کا پلٹ کے آنا، یہ آیا ہم پہ عذاب کیسا
ہے موت کا ایک دن معین تو چہروں پہ اضطراب کیسا
جو عمر ساری ہے تیر کر دی خُدا کو پانے میں ہم نے اب تک
خُدا ملا ہے غریب کے گھر، تو مولوی کا سراب کیسا
غریب کے پیٹ میں نوالہ نہ تن پہ کپڑا نہ پا میں جوتا
یہ خالی پیٹوں گناہ کیسے، یہ مفلسی کا حساب کیسا
غریب فاقوں سے مر رہے ہیں خطاب ہر روزسن رہے ہیں
بتا دے مجھ کو تو شیخِ مسجد کہ فاقہ کش کو خطاب کیسا
جو میں نے مانگا دو گھونٹ پانی دِکھا دیا مجھ کو ابرِ باراں
جو سر پہ آ کے پلٹ گیا پھر وہ کیسا بادل سحاب کیسا
الیاس عاجز
No comments:
Post a Comment