Wednesday, 20 October 2021

عجب اشکوں کی بارش ہو گئی ہے

 عجب اشکوں کی بارش ہو گئی ہے

دلوں کی گرد ساری دھو گئی ہے

سنائی دے رہی ہیں سسکیاں اب

سہانی راگنی چپ ہو گئی ہے

ڈرے جاتے ہیں ہم کو دیکھ کر سب

ہماری شکل ہم سے کھو گئی ہے

بھرا رہتا ہے کمرے میں اندھیرا

ہماری نیند بھی اب سو گئی ہے

کسی کے ساتھ رہتے رہتے حارث

مِری پہچان مجھ میں کھو گئی ہے


عبید حارث

No comments:

Post a Comment