Thursday, 21 October 2021

ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں

 ہماری ذات میں بستے سبھی ہیں

ہم اچھے ہیں تو پھر اچھے سبھی ہیں

یقیں کیسے کریں وعدے پہ تیرے

یہی وعدہ ہے جو کرتے سبھی ہیں

دکھائی کیوں نہیں دیتا کسی کو

خدا کی کھوج میں نکلے سبھی ہیں

مِرے اندر فقط قطرہ نہیں ہے

سمندر جھیل اور جھرنے سبھی ہیں

زمیں پر آئے گا وہ آسماں سے

نظارہ دیکھنے ٹھہرے سبھی ہیں

چلی تھی اک ہوا کچھ دیر پہلے

اسی کے خوف سے سہمے سبھی ہیں

سبق لیتے نہیں ہم کیوں کسی سے

ہمارے سامنے قصے سبھی ہیں


عبید حارث

No comments:

Post a Comment