Sunday, 3 October 2021

وہ مجھ سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہے

 وہ مجھ سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہے

فسانہ یاد کرنے کو فسانے ڈھونڈ لیتا ہے

کہے گا یہ، کرے گا وہ، بھلا کیا بات ہے یہ بھی

مقیّد کر کے بانہوں میں زمانے ڈھونڈ لیتا ہے

مِری تشنہ لبی کا کرب اس سے چُھپ نہیں پایا

وہ سانسوں میں چُھپی لَے کے ترانے ڈھونڈ لیتا ہے

فراق اس شخص کا ایسا مِرے دل پر ہوا حاوی

کوئی موقع ہو رونے کا ٹھکانے ڈھونڈ لیتا ہے 

مجھے کہتا ہے مجھ سے عشق کر لو ہے ثواب اس میں

ہما!! تائید میں اپنی سیانے ڈھونڈ لیتا ہے


ہما شاہ

No comments:

Post a Comment