طے کر کے مسافر کو مسافت نہیں آتی
شمشیر اُٹھانے سے شجاعت نہیں آتی
تعزیر جو گُفتار کے آڑے نہیں آتی
اس قوم کے حصے میں یہ ذلت نہیں آتی
احساس گُناہ،۔ سوچ گُناہ،۔ لفظ گُناہ ہیں
کیوں آج بھی لوگوں میں بغاوت نہیں آتی
جس شہر میں عصمت کی جگہ بُھوک چلائے
اس شہر کے حاکم کو سخاوت نہیں آتی
وہ خاک ہے تر آج بھی اپنوں کے لہو سے
جس خاک کو دُشمن سے عداوت نہیں آتی
کاشف سلطان
No comments:
Post a Comment