Friday, 8 October 2021

اک ذرا سی چاہ میں جس روز بک جاتا ہوں میں

 اک ذرا سی چاہ میں جس روز بک جاتا ہوں میں

آئینہ کے سامنے اس دن نہیں آتا ہوں میں

رنج غم اس سے چھپاتا ہوں میں اپنے لاکھ پر

پڑھ ہی لیتا ہے وہ چہرہ پھر بھی جھٹلاتا ہوں میں

قرض کیا لایا میں خوشیاں زندگی سے ایک دن

روز کرتی ہے تقاضہ اور جھنجھلاتا ہوں میں

حوصلہ تو دیکھیے میرا غزل کی کھوج میں

اپنے ہی سینے میں خنجر سا اتر جاتا ہوں میں

دے سزائے موت یا پھر بخش دے تو زندگی

کشمکش سے یار تیری سخت گھبراتا ہوں میں

خواب سچ کرنے چلا تھا گاؤں سے میں شہر کو

نیند بھی کھو کر یہاں آلوک پچھتاتا ہوں میں


آلوک یادو

No comments:

Post a Comment