Wednesday, 20 October 2021

جینے کے رنگ ڈھنگ سبھی مانتے ہیں ہم

 جینے کے رنگ ڈھنگ سبھی مانتے ہیں ہم

لیکن بڑے سلیقے سے غم ٹالتے ہیں ہم

اک روز تو خیال سے باہر ملو ہمیں

تصور بنے سراپا یہ جانتے ہیں ہم

اولاد آ گئی ہے اب قد کے آس پاس

یہ بوجھ ٹل ہی جائے گا یہ مانتے ہیں ہم

چاہت پہ کیا کریں گے اب شاعری بھلا

اس کو وفا کا جذبہ نہیں مانتے ہیں ہم

میں محرموں کی تابع صدقے بصِدق جاں

لیکن ہیں انسان پہلے یہ جانتے ہیں ہم

دنیا کی کب ہے مانی یہ بات ساریہ

جو چیز نہ تھی بس میں وہ مانگتے ہیں ہم


ہما ساریہ

No comments:

Post a Comment