Sunday, 3 October 2021

نئی زمین عطا ہو نیا مکاں بھی بنے

 نئی زمین عطا ہو، نیا مکاں بھی بنے

ہمارے ہجر کا کچھ منفرد نشاں بھی بنے

چبھو لیا تِری چوڑی کا شیشہ آنکھوں میں

ہماری آنکھ کا نقشہ لہو لہاں بھی بنے

تمام ہجر زدہ لوگ میرے ساتھ چلیں

فراقِ یار کے ماروں کا کارواں بھی بنے

بہار آئی ہے پھولوں سے لد گئیں شاخیں

ہمارے نام کا اِک غنچۂ دہاں بھی بنے

اُگا رہا ہوں نئے پیڑ گھر کے آنگن میں

کوئی تو ہو جو مِرے گھر کا سائباں بھی بنے

ہنر نہ علم، نہ عقل و شعور تھا فیصل

کچھ ایسے لوگ یہاں میرِ کارواں بھی بنے


فیصل امام رضوی

No comments:

Post a Comment