Thursday, 21 October 2021

یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں

 یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں

دل کے ویرانے کو کرنے لگیں جل تھل آنکھیں

میری آنکھوں کا کوئی ابر سے رشتہ ہے ضرور

ٹوٹ کے برسی گھٹا جب ہوئیں بوجھل آنکھیں

خواب کو خواب سمجھتی ہی نہیں جانے کیوں

ڈھونڈھتی رہتی ہیں اک شخص کو پاگل آنکھیں

کیسا رشتہ ہے تعلق ہے یہ کیسا آخر

چوٹ تو دل پہ لگی ہو گئیں گھائل آنکھیں

شوخیاں شرم و حیا نور کے سائے جھیلیں

عمر میں پہلے پہل دیکھیں مکمل آنکھیں

جس طرح کوئی غزل لکھی ہو مطلع کے بغیر

یوں نظر آتی ہیں اکثر بنا کاجل آنکھیں

اے شکیل ان سے کہو پیار سے وہ دور رہیں

درد کا بوجھ نہ سہہ پائیں گی چنچل آنکھیں


شکیل شمسی

No comments:

Post a Comment