کچھ خوف وادیوں کے کنارے ملے مجھے
کتنے دنوں کے بعد سہارے ملے مجھے
اک عمر خوابِ عشق سے آنکھیں بھری رہیں
تب جا کے عرشِ دل کے ستارے ملے مجھے
رستے میں جو بھی چھوڑ گئے کیا کہوں انہیں
کتنے عجیب تر تھے جو پیارے ملے مجھے
ہرگز کسی میں زیست دکھائی نہ دی مگر
پُرکیف ہر طرف سے نظارے ملے مجھے
میں نے پلٹ کے اس کو صدا تک نہ دی کبھی
یوں تو بڑے کمال اشارے ملے مجھے
رنگِ خزاں بھی شاملِ فصل بہار تھا
کیا کیا عجیب رنگ کے دھارے ملے مجھے
یہ شب کہاں کٹی کہ سراغِ سحر دِکھے
ملنے کو آنسوؤں کے ستارے ملے مجھے
اسماء ہادیہ
No comments:
Post a Comment