جرمِ ضعیفی کی سزا
جو لوگ چڑھنے اُترنے سے خوف کھاتے ہیں
اُنہی کے قصر میں خود کار سیڑھیاں دیکھیں
پُوچھا لگا کے گھر میں نقب پہرے دار نے؛
کیا بات ہے کہ سارے مکیں ہیں ڈرے ڈرے
اگلی صف میں جو لوگ بیٹھے ہیں
تن کے اُجلے ہیں، من کے کالے ہیں
خدا ہے قادر و عادل مگر خدا کی قسم
قدم قدم پہ قیامت ہے آدمی کے لیے
اس شہر کے باشندوں پہ جو وقت پڑا ہے
تسلیم کرو، جرمِ ضعیفی کی سزا ہے
فخرالدین بلے
No comments:
Post a Comment