Sunday, 3 October 2021

ہم جھکاتے بھی کہاں سر کو قضا سے پہلے

 ہم جھکاتے بھی کہاں سر کو قضا سے پہلے

وقت نے دی ہے سزا ہم کو خطا سے پہلے

اپنی قسمت میں کہاں رقص شرر کا منظر

شمع جاں بجھ گئی دامن کی ہوا سے پہلے

یہ الگ بات کہ منزل کا نشاں کوئی نہ تھا

کوہسار اور بھی تھے کوہِ ندا سے پہلے

مدعا کوئی نہ تھا تیرے سوا کیا کرتے

دل دھڑکتا ہی رہا حرفِ دعا سے پہلے

روبرو اس کے رہی آئینہ بن کر شاہین

دیکھ لے اپنی نظر جرمِ جفا سے پہلے

اسکی آنکھوں میں عجب سحر ہے سلمیٰ شاہین

ہو گئی ہوں میں شفایاب دوا سے پہلے


سلمیٰ شاہین

No comments:

Post a Comment