Wednesday, 6 October 2021

بات بے بات خفا ہوتا لڑا رہتا ہے

 بات بے بات خفا ہوتا لڑا رہتا ہے

دل محبت میں کسی ضد پہ اڑا رہتا ہے

گھر کے آنگن میں پنپتی ہیں اگرچہ خوشیاں

تِیر سینے میں کسی دُکھ کا گڑا رہتا ہے

ریل چل کر نئی تصویر میں ڈھل جاتی ہے

دل وہِیں گاؤں کے پھاٹک پہ کھڑا رہتا ہے

منفرد مجھ کو کئے رکھتا ہے یہ اوروں سے

جو نگینہ مِری پلکوں میں جڑا رہتا ہے

عشق ہونے کو تو آسان بھی ہو سکتا تھا

امتحاں اس میں بہر طور کڑا رہتا ہے

یوں بھی ہوتا ہے جُدا ہو کے کوئی ہنستا ہو

قُفل ہونٹوں پہ کہیں چُپ کا پڑا رہتا ہے

جِیت ہوتی ہے رواجوں ہی کی کاشف رانا

جاوداں عشق میں سوہنی کا گھڑا رہتا ہے


کاشف رانا

No comments:

Post a Comment