بات بے بات خفا ہوتا لڑا رہتا ہے
دل محبت میں کسی ضد پہ اڑا رہتا ہے
گھر کے آنگن میں پنپتی ہیں اگرچہ خوشیاں
تِیر سینے میں کسی دُکھ کا گڑا رہتا ہے
ریل چل کر نئی تصویر میں ڈھل جاتی ہے
دل وہِیں گاؤں کے پھاٹک پہ کھڑا رہتا ہے
منفرد مجھ کو کئے رکھتا ہے یہ اوروں سے
جو نگینہ مِری پلکوں میں جڑا رہتا ہے
عشق ہونے کو تو آسان بھی ہو سکتا تھا
امتحاں اس میں بہر طور کڑا رہتا ہے
یوں بھی ہوتا ہے جُدا ہو کے کوئی ہنستا ہو
قُفل ہونٹوں پہ کہیں چُپ کا پڑا رہتا ہے
جِیت ہوتی ہے رواجوں ہی کی کاشف رانا
جاوداں عشق میں سوہنی کا گھڑا رہتا ہے
کاشف رانا
No comments:
Post a Comment