صحرا صحرا رات کریں ہم
تنہائی کی بات کریں ہم
پتھر دل دُنیا پر آخر
کیوں ضائع جذبات کریں ہم
جب جی چاہے لوٹ مچا دیں
جب چاہے خیرات کریں ہم
اک دُوجے کے درد ٹٹولیں
کچھ باتیں بے بات کریں ہم
کس آنگن کو سُوکھا چھوڑیں
کس چھت پر برسات کریں ہم
آپ ہی بولیں، آپ کی خاطر
ایسا کیا حضرات کریں ہم
پرنالے بھی کُھل جائیں گے
پہلے کچھ برسات کریں ہم
ایک اکیلے، کیسا ہلا؟
آؤ مل کر ساتھ کریں ہم
کنچن ڈوبھال
No comments:
Post a Comment