Sunday, 3 October 2021

جب بھی ملا وہ ٹوٹ کے ہم سے ملا تو ہے

 جب بھی ملا وہ ٹوٹ کے ہم سے ملا تو ہے

ظاہر ہے اس خلوص میں کچھ مدعا تو ہے

اس کو نیا مزاج،۔ نیا ذہن چاہیۓ

بچہ زباں چلاتا نہیں سوچتا تو ہے

کیا منصفی ہے آپ کی خود دیکھ لیجیۓ

انصاف شہر شہر تماشا بنا تو ہے

دھبے لہو کے ہم کو بتا دیں گے راستہ

شاید کسی کے پاؤں میں کانٹا چبھا تو ہے

منزل کی جستجو میں اکیلے نہیں ہیں ہم

ہمراہ تو نہیں ہے تِرا نقشِ پا تو ہے

گو امن ہو گیا ہے وہاں قتل و خوں کے بعد

دروازہ سازشوں کا ابھی تک کُھلا تو ہے

تہذیب کے لبادے میں سب بے لباس ہیں

انجم تِرے بدن پہ دریدہ قبا تو ہے


فاروق انجم

No comments:

Post a Comment