Monday, 11 October 2021

درد اب دل کی دوا ہو جیسے

 درد اب دل کی دوا ہو جیسے

زندگی ایک سزا ہو جیسے

حسن یوں عشق سے ناراض ہے اب

پھول خوشبو سے خفا ہو جیسے

اب کچھ اس طرح سے خاموش ہیں وہ

پہلے کچھ بھی نہ کہا ہو جیسے

یوں غمِ دل کی زباں مہکی ہے

نکہتِ زلفِ دوتا ہو جیسے

کتنا سنسان ہے رستہ دل کا

قافلہ کوئی لُٹا ہو جیسے


افتخار اعظمی

No comments:

Post a Comment