Saturday, 9 October 2021

یہی اک وسوسہ یا رب ستاتا مجھ کو اکثر ہے

 یہی اک وسوسہ یا رب، ستاتا مجھ کو اکثر ہے

کہ میرا کون سا غم، دوسرے کس غم سے بڑھ کر ہے

مِری آنکھوں میں برسوں سے بھرے ہیں دکھ مِرے سارے

سنبھل کر دیکھیۓ گا، بند کوزے میں سمندر ہے

تمہاری مصلحت اندیشیاں بھی مجھ سے شاکی ہیں

مجھے تسلیم! ناداں ہوں، بغاوت میرے اندر ہے

مقامِ بدر بھی آتا ہے اکثر زندگانی میں

میں تنہا ہوں، مقابلِ میرے اک دنیا کا لشکر ہے

اٹھا سکتا ہے یہ طوفاں، نہ خاموشی پہ جانا تم

بتاؤں تم کو دل عورت کا اک گہرا سمندر ہے

یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں؟

مِرے ہاتھوں میں چوڑی ہے، تیرے ہاتھوں میں پتھر ہے

میں خائف خارجی دشمن سے کب ہوں اے صدف لیکن

کروں میں کیا یہ سب شورِ قیامت میرے اندر ہے


صدف مرزا

No comments:

Post a Comment