Wednesday, 20 October 2021

عشق وحشت مٹا بھی سکتا تھا

 عشق وحشت مٹا بھی سکتا تھا

عشق طوفاں اٹھا بھی سکتا تھا

مانتا ہوں، بگڑ گیا ہوں میں

تُو بڑا تھا، بتا بھی سکتا تھا

اس کو روکا ہی کسی نے ہے صاحب

گر وہ آتا، تو آ بھی سکتا تھا

بات دل کی ہی کی نہیں، ورنہ

اشک آنکھوں میں لا بھی سکتا تھا

جتنا چاہا ہے اُتنی شدت سے

تجھ کو امجد بُھلا بھی سکتا تھا


امجد تجوانہ

No comments:

Post a Comment