Monday, 11 October 2021

دعائے نیم شب کو بے اثر ہونے نہیں دیتا

 دعائے نیم شب کو بے اثر ہونے نہیں دیتا

خدا احسان کرتا ہے، خبر ہونے نہیں دیتا

گراتا ہے مِرے دل پر محبت کے کئی قطرے

صدف سے وہ مجھے لعل و گہر ہونے نہیں دیتا

مجھے پروان چڑھتا دیکھ کر وہ خوش تو ہے لیکن

مِری سرسبز شاخوں پر ثمر ہونے نہیں دیتا

وہ اپنی زندگی کی ساعتیں گن گن کے رکھتا ہے

اِدھر سے ایک لمحہ بھی اُدھر ہونے نہیں دیتا

مجھے وہ روک لیتا ہے بڑھا کر لو محبت کی

دِیا مجھ کو ہوا کا ہمسفر ہونے نہیں دیتا

اگر کچھ بھی ملا مجھ کو، ملے گا ایک ہی در سے

یہ وہ احساس ہے جو در بدر ہونے نہیں دیتا

وہ کہتا ہے؛ کوئی اس کی حویلی سے نہ اونچا ہو

اسی ڈر سے تو میرے گھر شجر ہونے نہیں دیتا


مظہر نیازی

No comments:

Post a Comment