Tuesday, 23 November 2021

اس نے مجھے کبھی چھو کر نہیں دیکھا

 تھیوری


اس نے مجھے کبھی چھو کر نہیں دیکھا

اور وہ میرے ان بچوں کا باپ ہے

جنہیں میں نے جنم نہیں دیا

میں اس کے ہاتھ کے لمس سے واقف ہوں

اس سانپ کے پیروں کے نشانوں سے

میرے بدن کے آنگن کی مٹی کا ہر ذرہ واقف ہے 

میں واقف ہوں

صرف اس کی آنکھوں سے

جنہیں میں نے کبھی بند حالت میں نہیں دیکھا

جو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں کروڑوں سوالات پوچھتی ہیں

جن میں سے ایک کا جواب بھی میرے پاس نہیں ہوتا

وہ مجھ سے صرف ایک خواب کی دوری پر رہتا ہے

ان برف کے پہاڑوں کے پار

جو کسی موسم میں نہیں پگھلتے

میں کئی بار اس بات پر جھگڑا کر چکی ہوں

کہ وہ اتنی دور کیوں رہتا ہے

حالانکہ اسے ہمارے شہر کا موسم پسند ہے

اسے پسند ہیں میرے گھر کے ارد گرد کھیت

جن میں ہم چھپ کر ملنے کی ترکیب بناتے ہیں

وہ دن رات سفر میں ہونے کے باوجود

دس گھنٹے کی مسافت کو دس سال میں بھی طے نہیں کر سکا

حالانکہ ہمارے جسموں کے سوا

ہماری راہ میں کوئی چیز حائل نہیں

میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی

کہ میں اس سے ملنا نہیں چاہتی

یا ہم مل نہیں سکتے

میں نے کئی بار سرد راتوں میں

برف کے پہاڑوں پر سفر کیا ہے

مگر یہ فاصلہ ایک رات کی مسافت سے زیادہ ہے

اور دن میں میرے لیے گھر سے نکلنا ناممکن ہے

ہم نے کئی بار کھتیوں میں چھپنے کی کوشش کی ہے

مگر ہمارے قد فصل سے بڑے ہیں

اور ان میں چھپنا ممکن نہیں ہے

اگر کوئی شخص سوچتا ہے کہ 

یہ دنیا بہت بڑی ہے

تو اسے چاہیے کہ محبت کر کے دیکھے

اس کا اصل حدود اربعہ سامنے آ جائے گا

اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے

کہ ہماری عمریں بہت کم ہیں

تو اسے سال کی سب سے چھوٹی رات

اپنے محبوب کے انتظار میں گزار کر دیکھنی چاہیے


خوش بخت بانو

No comments:

Post a Comment