Wednesday, 3 November 2021

دھند کے پار کنارہ تو نہیں ہو سکتا

 دُھند کے پار کنارا تو نہیں ہو سکتا

یار طوفاں کا سہارا تو نہیں ہو سکتا

شب کو ہے چاہ چمکتے ہوئے روشن دن کی

ان چراغوں سے گزارا تو نہیں ہو سکتا

ہم ذرا تلخ دہن، تلخ سخن، تلخ روا

خلقتِ شہر سے یارا تو نہیں ہو سکتا

چاند مایوس سا لوٹا ہے ابھی سُوئے فلک

میرے محبوب سا پیارا تو نہیں ہو سکتا

ایک ہلکی سی کسک دل میں تو اٹھتی ہو گی

بے وفا سارے کا سارا تو نہیں ہو سکتا

دل کو زنجیر بکف کر دیا تیری خاطر

پھر وہ تقدیر سے ہارا تو نہیں ہو سکتا

آشیاں خود ہی تو برباد کیا چڑیوں کا

کسی تنکے کا سہارا تو نہیں ہو سکتا

کیوں مِرے دل کے مکیں پر یوں جرح جاری ہے

وہ بھی عرشوں سے اتارا تو نہیں ہو سکتا


ہما علی

No comments:

Post a Comment