Monday, 22 November 2021

اس برس پھر

 اس برس پھر


اس برس

میں ہوں پھر ہجر کا کچا سا نیا سبز شجر

پھر تِری یاد کے وحشی صفت ناخن ہیں

کہ جو ہریالی کو میری پیہم

روز کھرچے ہی چلے جاتے ہیں

پھر درختوں کی قطاروں میں مجھے

کتنا البیلا، عجب اور انوکھا کر کے

بھیڑ میں مجھ کو نمایاں کر کے

میرے پتوں پہ مِری شاخوں پہ

ایک مبہم سی جو تحریر لکھا کرتے ہیں

اس کو پڑھنا ہی تو ٹھہرا ہے میرا کام صنم

ہاں تِرا نام، تِرا نام، تِرا نام صنم

اس برس

میں ہوں پھر ہجر کا کچا سا نیا سبز شجر


عذرا پروین

No comments:

Post a Comment