اس برس پھر
اس برس
میں ہوں پھر ہجر کا کچا سا نیا سبز شجر
پھر تِری یاد کے وحشی صفت ناخن ہیں
کہ جو ہریالی کو میری پیہم
روز کھرچے ہی چلے جاتے ہیں
پھر درختوں کی قطاروں میں مجھے
کتنا البیلا، عجب اور انوکھا کر کے
بھیڑ میں مجھ کو نمایاں کر کے
میرے پتوں پہ مِری شاخوں پہ
ایک مبہم سی جو تحریر لکھا کرتے ہیں
اس کو پڑھنا ہی تو ٹھہرا ہے میرا کام صنم
ہاں تِرا نام، تِرا نام، تِرا نام صنم
اس برس
میں ہوں پھر ہجر کا کچا سا نیا سبز شجر
عذرا پروین
No comments:
Post a Comment