Monday, 22 November 2021

ہم اپنے زخم سبھی کو دکھا نہیں سکتے

 ہم اپنے زخم سبھی کو دکھا نہیں سکتے

جو شکوہ تم سے ہے سب کو سنا نہیں سکتے

مِرے خیال کی گہرائی کو ذرا سمجھو

کہ صرف لفظ تو مطلب بتا نہیں سکتے

ملال یہ ہے کہ ساقی تو بن گئے صاحب

شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتے

عجب ہے پھول کی فطرت اسے مسل کر تم

مہکتے ہاتھوں کی خوشبو چھپا نہیں سکتے

لکھا گیا جو مقدر میں حرف آخر ہے

تم اپنی مرضی سے اس کو مٹا نہیں سکتے

ہزاروں حیلے بہانے تراش لو پھر بھی

تم اپنے چہرے کی خفت چھپا نہیں سکتے

اب ایک ہم ہیں کہ صدیاں گزار دیں عادل

اور ایک وہ ہیں کہ لمحہ بتا نہیں سکتے


احمد عادل

No comments:

Post a Comment