عارفانہ کلام نعتیہ کلام
بیاں کو نعمتِ خضریٰ سے بھر دیا جائے
جو لکھ رہا ہوں اسے نعت کر دیا جائے
نبیؐ کے نور سے لطفِ سحر دیا جائے
سحر کو شمس تو شب کو قمر دیا جائے
میں ایک سنگ ہوں اور بولنے کی حسرت ہے
مجھے بھی اُنؐ کی ہتھیلی پہ دھر دیا جائے
سنا ہے آپﷺ مصیبت کے وقت آتے ہیں
تو مشکلوں کو مِری سمت کر دیا جائے
اسی کا نام کریمی ہے مصطفیٰﷺ کی قسم
کہ کوئی مانگے نہ مانگے مگر دیا جائے
مدینہ مجھ سے زیارت کی نذر مانگے اگر
تو میرا فیصلہ ہو گا کہ سر دیا جائے
رکھے وہ ہستئ بے سایہ زیر سایہ مجھے
اس ایک شرط پہ جنت میں گھر دیا جائے
میں آزماؤں محمدﷺ کے اسمِ اعظم کو
مجھے سفینہ نہیں بس بھنور دیا جائے
دل و دماغ کا یہ خطۂ عرب ہے اجاڑ
یہ رات دن کا سفر ختم کر دیا جائے
لغت میں صدقۂ خیر البشر رہے موجود
میں چاہتا ہوں سخن معتبر دیا جائے
یہ شہرِ علم کی خواہش تھی کوئی مجھ میں رہے
تو کبریاﷻ سے کہا؛ مجھ کو در دیا جائے
عجب نظام ہے پودے کو سنگ میں ہو عطا
گلوں کا رزق انہیں شاخ پر دیا جائے
ہوں دو جہان پہ رحمت کی بارشیں اکبر
مجھے بھی بوند برابر وہ زر دیا جائے
حسنین اکبر
No comments:
Post a Comment