Saturday, 25 December 2021

ترا محتاط نہ اس خوف سے پلکیں جھپکے

 تِرا محتاط نہ اس خوف سے پلکیں جھپکے

کہ تِری یاد کا آنسو نہ زمیں پر ٹپکے 

دسترس میں ہیں، مِرے بس میں ہیں موجود و عدم 

اور میں پہنچا ہوں یہاں اسمِ محمدﷺ جَپ کے

کس کے دربار سے لوٹایا گیا خالی ہمیں

کس کی خیرات پہ اوقات سے باہر لپکے

ایک بازو جو بُرے کام سے روکے ہم کو 

ہاتھ ہو کوئی بھلے کام پہ کاندھا تھپکے 

اپنی گمنامی سے مشہور ہوئے ہیں ہم لوگ

اپنے چھپنے کی خبر پھیل گئی ہے چَھپ کے


صداقت طاہر

No comments:

Post a Comment