Friday, 3 December 2021

ممکن نہیں الفت کا ہو اظہار غزل میں

 ممکن نہیں الفت کا ہو اظہار غزل میں

کرتی ہوں مگر بات میں ہر بار غزل میں

بھیجا تو ہے خط اس نے مگر سادہ ورق ہے

انکار غزل میں ہے، نہ اقرار غزل میں

صحرا کا فسانہ ہو یا جنگل کی کہانی

یہ تذکرے بن جاتے ہیں گلزار غزل میں

اس دور کا حاصل ہے فقط ضبطِ قلم ہی

ہے سوز نہ اب ساز نہ جھنکار غزل میں

ہے غور طلب بات یہی بزمِ سخن میں

بازاروں میں غزلیں ہیں کہ بازار غزل میں

رضیہ! ہو مبارک تمہیں معراجِ سخن یہ

فطرت کا نظر آتا ہے کردار غزل میں


رضیہ بصیر

رضیہ صدیقی بصیر

No comments:

Post a Comment