Sunday, 5 December 2021

صداقت کا جو پیغمبر رہا ہے

 صداقت کا جو پیغمبر رہا ہے

وہ اب سچ بولنے سے ڈر رہا ہے

کہانی ہو رہی ہے ختم شاید

کوئی کردار مجھ میں مر رہا ہے

ذرا سی دیر کو آندھی رکی ہے

پرندہ پھر اڑانیں بھر رہا ہے

مِرے احباب کھو جائیں گے اک دن

مجھے یہ وہم سا اکثر رہا ہے

لگی ہے روشنی کی شرط شب سے

ستارہ جگنوؤں سے ڈر رہا ہے


سلیم انصاری

No comments:

Post a Comment