صداقت کا جو پیغمبر رہا ہے
وہ اب سچ بولنے سے ڈر رہا ہے
کہانی ہو رہی ہے ختم شاید
کوئی کردار مجھ میں مر رہا ہے
ذرا سی دیر کو آندھی رکی ہے
پرندہ پھر اڑانیں بھر رہا ہے
مِرے احباب کھو جائیں گے اک دن
مجھے یہ وہم سا اکثر رہا ہے
لگی ہے روشنی کی شرط شب سے
ستارہ جگنوؤں سے ڈر رہا ہے
سلیم انصاری
No comments:
Post a Comment