Thursday, 2 December 2021

جس دل میں نہاں ان کی تصویر نہیں ہوتی

جس دل میں نہاں ان کی تصویر نہیں ہوتی

اس دل کی حقیقت میں توقیر نہیں ہوتی

آنکھوں کو تمنا ہے خاک در جاناں کی

خاک در ہر کُوچہ اکسیر نہیں ہوتی

رونا تو ہے بس اس کی محرومیٔ قسمت کا

یہ دولتِ غم جس کی تقدیر نہیں ہوتی

کیوں جمع کروں تنکے ہے برق زدہ گُلشن

شعلوں میں نشیمن کی تعمیر نہیں ہوتی

اے عیش! ہے فرسُودہ اب قیس کا افسانہ

اُلفت تو کسی کی بھی جاگیر نہیں ہوتی


عیش میرٹھی

No comments:

Post a Comment