Monday, 17 January 2022

یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے

 یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے

گہرائی میں کیوں نہ اتر کر دیکھا جائے

تیز ہوائیں یاد دلانے آئی ہیں

نام تِرا پھر ریت پہ لکھ کر دیکھا جائے

شور حریمِ ذات میں آخر اٹھا کیوں

اندر دیکھا جائے کہ باہر دیکھا جائے

گاتی موجیں شام ڈھلے سو جائیں گی

بعد میں ساحل پہلے سمندر دیکھا جائے

سارے پتھر میری ہی جانب اٹھتے ہیں

ان سے کب محفوظ مِرا سر دیکھا جائے


احمد محفوظ

No comments:

Post a Comment