Saturday, 1 January 2022

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

 ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

دان یہ فقر کی دولت نہیں کر سکتے ہم

اک عداوت سے فراغت نہیں ملتی ورنہ

کون کہتا ہے محبت نہیں کر سکتے ہم

کسی تعبیر کی صورت میں نکل آتے ہیں

اپنے خوابوں میں سکونت نہیں کر سکتے ہم

شاخ سے توڑ لیا کرتے ہیں آگے بڑھ کر

جن کی خوشبو پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

بے خبر یوں کہ ہر اک بات خبر لگتی ہے

خبر ایسے ہے کہ حیرت نہیں کر سکتے ہم


سرفراز زاہد

No comments:

Post a Comment